نیند ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جسے سائنسدان ابھی تک مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ نیند کے دوران دماغ اور جسم میں بہت سے اہم عمل ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔

میلاٹونن: نیند کا ہارمون

میلاٹونن ایک ہارمون ہے جو دماغ کی پینیل گلینڈ سے خارج ہوتا ہے۔ یہ ہارمون اندھیرے میں بڑھتا ہے اور روشنی میں کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رات کو اندھیرے میں نیند آتی ہے اور صبح روشنی میں آنکھ کھل جاتی ہے۔

موبائل اور ٹی وی کی نیلی روشنی میلاٹونن کی پیداوار کو روکتی ہے۔ اسی لیے رات کو اسکرین دیکھنے کے بعد نیند نہیں آتی۔ پاکستان میں رات کو موبائل استعمال کرنے کی عادت نیند کی مشکلات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

سرکیڈین ریدم: جسم کی اندرونی گھڑی

سرکیڈین ریدم ہمارے جسم کی 24 گھنٹے کی اندرونی گھڑی ہے۔ یہ گھڑی ہمارے سونے اور جاگنے کے چکر کو کنٹرول کرتی ہے۔ جب یہ گھڑی ٹھیک ہو تو نیند وقت پر آتی ہے اور صبح تازہ دم اٹھتے ہیں۔

سرکیڈین ریدم کو درج ذیل چیزیں متاثر کرتی ہیں:

  • روشنی اور اندھیرا — سب سے اہم عنصر
  • کھانے کا وقت
  • ورزش کا وقت
  • درجہ حرارت
  • سونے اور جاگنے کا غیر منظم وقت

نیند کے مراحل

نیند ایک ہی حالت نہیں بلکہ اس کے مختلف مراحل ہیں:

  • مرحلہ 1 (ہلکی نیند): نیند کا آغاز، آسانی سے جاگ سکتے ہیں
  • مرحلہ 2: دل کی دھڑکن سست، جسم کا درجہ حرارت کم
  • مرحلہ 3 (گہری نیند): جسم کی مرمت، قوت مدافعت مضبوط
  • REM نیند: خواب آتے ہیں، دماغ فعال، یادداشتیں محفوظ ہوتی ہیں

ایک مکمل نیند کا چکر تقریباً 90 منٹ کا ہوتا ہے اور رات میں 4 سے 6 چکر ہوتے ہیں۔

نیند کے دوران دماغ زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے — یہ عمل الزائمر جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

نیند اور قوت مدافعت

نیند کے دوران جسم میں سائٹوکائنز نامی پروٹین خارج ہوتی ہیں جو انفیکشن اور سوزش سے لڑتی ہیں۔ جو لوگ کم سوتے ہیں وہ زیادہ بیمار پڑتے ہیں اور ان کی بیماری بھی زیادہ دیر تک رہتی ہے۔

نیند اور وزن

نیند کی کمی بھوک کے ہارمون گریلن کو بڑھاتی ہے اور پیٹ بھرنے کے احساس والے ہارمون لیپٹن کو کم کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ کھاتے ہیں اور وزن بڑھتا ہے۔ پاکستان میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح میں نیند کی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

نیند کی سائنس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے National Institutes of Health کی تحقیق پڑھیں۔